جب تک دیکھ نا لوں تجھ کو طبعیت بڑی غمگین ہوتی ہے

جب تک دیکھ نا لوں تجھ کو طبعیت بڑی غمگین ہوتی ہے۔
تیری آواذ سنتے ہی دل مصطرب کو بڑی تسکین ہوتی ہے۔

ممکن ہے کسی منذل پر آ کر ایک ہو جائیں ہم دونوں
محبت بھرے دو دل جو مل جائیں زندگی بڑی رنگین ہوتی ہے۔

نہیں ہو نا امید اس کی رحمت سے اور کیا کہنا تیری بے لوث وفاوں کا
تیری پل بھر کی جداَئی کے تصور سے حالت بڑی سنگین ہوتی ہے۔

جنون شوق میں جاناں جب بھی تمھاری لزت وصل پاتا ہوں
کبھی شہد ، کبھی امرت، کبھی دودھ کی مانند نمکیں ہوتی ہے۔

نظر آتی نہیں اوقات اپنی کہ کبھی دیکھ پاوَں تیری دلکش رنگین اداوَں کو
دل والوں کی دنیا بھی اجڑی ہویَ بستی کی مانند بڑی مسکین ہوتی ہے۔

یہ نازو انداز تیرے، سخن دلنواز، اور ہر ایک ادا حسین ہوتی ہے۔
مگر کیا معلوم تجھے پانے کعبے کی دیواروں کے سایَے میں میری سر بسجدہ جبین ہوتی ہے۔

سید مقصود حسین